جاں فزائی
معنی
١ - جاں فزا کا اسم کیفیت، جان بڑھانا۔ "فزا (امر ہے فزودن سے پڑھنا، بڑھانا سے راحت فزا، جان فزا، جان فزائی، حیرت فزا، عیش فزا . وغیرہ۔" ( ١٩٢١ء، وضع اصطلاحات، ١٠٥ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'جاں' کے ساتھ فارسی مصدر 'فزودن' سے مشتق صیغہ امر 'فزا' کے ساتھ 'ئی' بطور لاحقہ کیفیت ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩٢١ء میں "وضع اصطلاحات" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - جاں فزا کا اسم کیفیت، جان بڑھانا۔ "فزا (امر ہے فزودن سے پڑھنا، بڑھانا سے راحت فزا، جان فزا، جان فزائی، حیرت فزا، عیش فزا . وغیرہ۔" ( ١٩٢١ء، وضع اصطلاحات، ١٠٥ )